ناظرینِ گرامی آج کی ویڈیو میں ہم آپ کو لے کر چلتے ہیں دنیا کے سب سے بڑے میگا پروجیکٹس کی طرف۔ ایسے منصوبے جنہوں نے نہ صرف انجینئرنگ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ امریکہ جیسی سپر پاور کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ امریکہ سب سے آگے ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج چین نے ایسے کارنامے سرانجام دے دیے ہیں جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ماہرین کہہ رہے ہیں کہ چین کی ترقی نے امریکہ کو کم از کم 200 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس مضمون میں ہم انہی حیران کن منصوبوں کو ایک ایک کر کے دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا۔
چین کا سب سے پہلا حیران کن منصوبہ جہازوں کے دیوہیکل پروپیلرز کی تیاری ہے۔ یہ سننے میں شاید ایک عام سا پرزہ لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پروپیلرز کئی منزلہ عمارت جتنے بڑے ہوتے ہیں۔ اور ان کے بغیر دنیا کی سب سے بڑی کارگو شپ یا جنگی بحری بیڑے ایک انچ بھی حرکت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اس شعبے میں وہ کمال دکھایا ہے جو امریکہ سمیت کوئی اور ملک نہیں کر پایا۔ اسے بنانے کے لیے سب سے پہلے اسٹیل کو ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلایا جاتا ہے اور دیوہیکل سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ جب یہ ٹھنڈا ہو کر سخت ہوتا ہے تو ایک بے ڈھنگا مگر وزنی ڈھانچہ سامنے آتا ہے۔ پھر بڑے روبوٹک بازو اور گرائنڈنگ مشینیں اسے تراشتی ہیں تاکہ اس کی سطح ہموار اور بالکل ایروڈائنامک ہو۔ ہر پروپیلر کو بیلنس ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے تاکہ سمندر کی بے رحم لہروں میں بھی جہاز نہ ڈگمگائے۔ یہی وہ راز ہے جس نے چین کو عالمی سمندری طاقتوں کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا ہے۔
اب آتے ہیں آسمان کی طرف جہاں چین کے ہوائی جہاز دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے جہاز آخر آسمان میں کس طرح ٹکے رہتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے ان کے پر۔ یہ پر صرف دھات کے بڑے بڑے ٹکڑے نہیں بلکہ انجینئرنگ کے ایسے شاہکار ہیں جن کے بغیر ہوائی جہاز کبھی پرواز ہی نہ کر سکیں۔ چین میں ہوائی جہاز کے پروں کی تیاری کا عمل اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے دیکھ کر بڑے بڑے ماہرین بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ایلومینیم کے بڑے بلاکس تیار کیے جاتے ہیں، پھر انہیں خصوصی ہائی پریشر مشینوں میں ڈالا جاتا ہے جو انہیں دباتی، کھینچتی اور کاٹتی ہیں تاکہ ایک ایسا ڈھانچہ بنے جو بظاہر ہلکا ہو لیکن اندر سے فولادی طاقت رکھتا ہو۔ یہی وہ توازن ہے جسے وزن اور مضبوطی کہا جاتا ہے، اور یہ توازن نہ ہو تو جہاز ایک لمحے میں فضا میں تباہ ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد آتا ہے سب سے اہم مرحلہ یعنی CNC مشینوں کا۔ یہ مشینیں ایک ایک ننھی سوراخ، ایک ایک کٹ اور ایک ایک کنارے کو مائیکرو لیول پر تراشتی ہیں۔ ذرا سا بھی کچا پن ہو تو جہاز کی رفتار پر فرق پڑے گا اور جہاز طوفانی ہواؤں میں ڈگمگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے انجینئرز پر کی سطح کو اس قدر باریک بینی سے تیار کرتے ہیں کہ وہ ہوا کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے پانی میں تیز دھار چھری۔ یہی ایروڈائنامکس ہے جو جہاز کو فضا میں سیدھا، متوازن اور برق رفتار رکھتی ہے۔
آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ ہوائی جہاز کو سب سے زیادہ خطرہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت ہوتا ہے۔ اس دوران پر سب سے زیادہ دباؤ جھیلتے ہیں۔ اگر پر مضبوط نہ ہوں تو جہاز زمین سے کبھی بلندی نہ ہو۔ چین نے اپنے پروں میں ایسی ٹیکنالوجی شامل کی ہے کہ وہ شدید سے شدید دباؤ اور باریک سے باریک جھٹکوں کو بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے نئے مسافر بردار جہاز اور فوجی طیارے نہ صرف رفتار میں امریکی جہازوں کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ حفاظت میں بھی پیچھے نہیں۔ یہاں تک کہ چین نے کاربن فائبر اور جدید کمپوزٹ میٹیریلز کو بھی پروں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے پروں کا وزن مزید کم ہو جاتا ہے لیکن طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاز زیادہ ایندھن بچاتا ہے، زیادہ فاصلے طے کرتا ہے اور ماحول کو بھی کم نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ وہ کمال ہے جس نے چین کو ہوا بازی کی دنیا میں ایک نئے دور کے آغاز پر لا کھڑا کیا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر زمین پر چین کی پہچان تیز رفتار ٹرینیں ہیں تو آسمان میں اس کی پہچان یہی طاقتور اور باریک بینی سے تیار کیے گئے پرزے ہیں۔ یہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے چین کو امریکہ کے برابر لا کھڑا کیا ہے، اور کئی میدانوں میں اس سے بھی آگے۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ مستقبل اب امریکہ کا نہیں بلکہ چین کا ہے۔


0 Comments