بھارت اور افغانستان کا پاکستان مخالف بیانیہ، نیکسس اور 2025 کی کلیریٹی

 


DGISPR کی پریس کانفرنس کا کچھ حصہ 

بھارتی میڈیا پر کھل کر یہ بات کی جا رہی ہے کہ 2026 میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر حملہ کریں گے۔ یہ بات صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریئل پالیٹکس یہی ہے کہ

Enemy of my enemy is my friend۔

یعنی پاکستان کا دشمن، بھارت کا دوست۔

یہ بیانات اس لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ فضا بنائی جا سکے، ذہن سازی کی جا سکے، کابل میں بھی، دہلی میں بھی۔ جب ان بیانات کو دیکھا جاتا ہے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف باتیں نہیں بلکہ ایک خاص منٹیلٹی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان بیانات کے دوران ہنسی، رویہ اور انداز یہی دکھاتا ہے کہ یہ خود کو انٹیلیکچول کہلانے والے لوگ ہیں۔

یہی وہ نیکسس ہے جو افغان طالبان، خوارج اور بھارت کے درمیان سامنے آتا دکھائی دیتا ہے۔ 2025 میں وہ تمام پردہ نشین عناصر کھل کر سامنے آ گئے ہیں جو خود کو جہاد کے نام پر پیش کرتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف یہ سب کچھ کس جہاد میں آتا ہے؟ اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟

اسی سال کچھ اور پردہ نشین عناصر بھی سامنے آئے جنہیں باریک وارداتیاں کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی جمہوریت اور کبھی انسانی حقوق کے پردے میں دہشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کی ایک کیس اسٹڈی اسی سال سامنے آئی، جس میں گفٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے الزام میں مکمل شواہد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ کام کیا تھا۔

جب گرفتاری عمل میں آئی تو یہ دیکھا گیا کہ ان کے حق میں کون بول رہا ہے۔ ملک سے باہر اور بھارت میں، حتیٰ کہ پاکستان میں بھی، کچھ لوگ ان کے حق میں ٹویٹس کرتے نظر آئے۔ ٹائمز آف انڈیا سمیت بھارتی میڈیا نے یہ بیانیہ بنایا کہ ایک انٹیلیکچول اور ایک ایڈیمک کو زبردستی غائب کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے وابستہ افراد، یورپ اور ناروے میں بیٹھے لوگ بھی اس کے حق میں بولتے نظر آئے۔

یہ وہی باریک وارداتیاں ہیں جو اس وقت سامنے آتی ہیں جب ریاست ان عناصر کے خلاف ایکشن لیتی ہے۔ جب جرائم سامنے لائے جاتے ہیں تو پیچھے چھپے ہوئے لوگ بھی مجبوراً بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ یہ خود کو ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کہتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ ہیومن رائٹس کس کے ہیں؟ ان لوگوں کے جو دہشتگردوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں؟

2025 ایک ایسا سال ثابت ہو رہا ہے جس میں پاکستانی عوام، ریاست اور قوم کو واضح کلیریٹی مل رہی ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے دہشتگردی پر مؤقف کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے یہ کہہ رہا تھا کہ افغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ بن چکا ہے، اور اب دنیا بھی یہی بات دہرا رہی ہے۔

Post a Comment

0 Comments