یہ رپورٹ پڑھنے کے بعد جو سلمان سفدر صاحب نے مرتب کی ہے جذبات پر قابو رکھنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود میں کوشش کروں گا کہ بات ایک قانونی پیرائے میں کروں اگرچہ یہ بات قانون سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔
عمران خان کے خلاف ایک جرم کا ارتکاب ہوا ہے اور یہ جرم اس ریاست نے کیا ہے۔ اس جرم کا چہرہ عبدالغفور انجم ہے یہ نام ہم نہیں بھولیں گے۔ مجھے عمران خان صاحب کی طرف سے خصوصی ہدایت آئی ہے:
سلمان سفدر صاحب نے کہا خان صاحب نے کہا ہے سلمان راجا کو کہو عبدالغفور انجم کے خلاف فوری مقدمہ دائر کریں۔
نومبر کے مہینے میں خان صاحب کی آنکھ میں تکلیف جو تھی وہ نمایاں ہوئی۔ یہ تکلیف بڑھتی گئی اور کسی وقت دسمبر میں ان کی آنکھ کی بینائی ایک آنکھ کی بینائی جو رائٹ آئی ہے مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ اس کے باوجود ان کو صرف عام قطرے دیے گئے جو آنکھ کو دیے جاتے ہیں۔ معمولی اگر خارش ہو تو ان کو ہسپتال نہیں لے کر گئے، جو ڈاکٹر ہے کوالیفائڈ آنکھ کا اس کو نہیں بلایا گیا۔ جیل کے ڈاکٹر ان کو قطرے دیتے رہے اور وہ کہتے رہے کہ میری تکلیف میں کمی نہیں ہو رہی۔ ایک آنکھ بالکل بینائی سے محروم ہو چکی تھی۔
اس کے بعد جب صورت حال اور بگڑی تو غفور انجم کو سولہ جنوری کو تبدیل کیا گیا۔ اس کے بعد جو نیا ایڈمنسٹریٹر آیا اس نے بھی دس دن ضائع کیے اور چھبیس جنوری کو ڈاکٹر بلایا گیا پمز ہسپتال سے ڈاکٹر عارف جنہوں نے آ کر جب ان کی آنکھ کا معائنہ کیا تو اس نے کہا کہ ان کو فل فور ہسپتال لے کر جایا جائے۔ وہاں ان کی آنکھ میں ایک ٹیکہ لگایا گیا جو لفظ یا استعمال کیا گیا ہے اکلیوژن آف دی ریٹنا۔ دی اکلیوژن کی جو ابھی بیماری سامنے آئی اس کے حوالے سے ایک ٹیکہ لگا جس سے خان صاحب کہتے ہیں کہ اب دس سے پندرہ فیصد بینائی اس حد تک واپس آئی ہے کہ اس آنکھ سے اگر وہ دیکھیں ان کو روشنی محسوس ہوتی ہے لیکن آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی۔ یہ انتہائی تکلیف دہ اور خوفناک صورت حال ہے اور دوسری آنکھ کے حوالے سے ہم کچھ نہیں جانتے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ خان صاحب کس طبعی صورت حال سے اس وقت متاثر ہیں جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں پر یہ اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فل فور ان کا مکمل طبی معائنہ ہو اور طبی معائنہ وہ ڈاکٹر کریں جن پہ خان صاحب کو اعتماد ہے، جن پر ہمیں اعتماد ہے، خان کے خاندان کو اعتماد ہے اور پاکستانی قوم کو اعتماد ہوگا۔
بالکل یہ صورت حال جو اس وقت جاری ہے ناقابل قبول ہے۔ آج چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سولہ تاریخ سے پہلے خان صاحب کا مکمل طبی معائنہ ہو، ان کی آنکھوں کا معائنہ وہ ڈاکٹر کریں جو اس حوالے سے استطاعت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ پمز ہسپتال میں ریٹنا کے حوالے سے سپیشلٹی رکھنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل میں دو ڈاکٹر صاحبان ہیں جو یہ سپیشلٹی رکھتے ہیں۔ جان بوجھ کر خان صاحب کو اب تک ان کے سامنے نہیں لے کر گئے، ان کو معائنے کا موقع نہیں دیا گیا تو یہ جرم خان صاحب کے خلاف ہوا ہے۔ اس میں بہت سے لوگ ملوث ہیں، سب کے نام سامنے آئیں گے، ہم کسی پہ پردہ نہیں ڈالیں گے۔ ایک نام خان صاحب نے خود دے دیا، انہوں نے نشاندہی کر دی ہے اپنے مجرم کی:
عبدالغفور انجم، اس کے خلاف فل فور مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
لیکن جیسا کہ عزمہ آپا نے کہا، اسلام آباد ہائی کورٹ بھی، علما آپا نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ بھی اس تمام عمل میں شامل ہے۔ کیوں خان صاحب کے مقدموں کی سماوئی نہیں ہوئی؟ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ ہم بار بار وہاں درخواستیں دیتے ہیں، بار بار پارلیمنٹیرین وہاں جاتے ہیں، بار بار سلمان سفدر جاتے ہیں، ہم جاتے ہیں چیف جسٹس کے کمرے تک جاتے ہیں، ہمیں موڑ دیا جاتا ہے اور اس دوران خان صاحب کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس کا نتیجہ اب ہمارے سامنے آ گیا ہے۔ اس قوم کے سب سے بڑے لیڈر کی ایک آنکھ جو ہے اس وقت انتہائی تشویشناک صورت حال سے دوچار ہے۔ ان کی پوری صحت کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے تو ہم یقیناً واپس عدالت جائیں گے۔ خان صاحب کا حکم ہے کہ عدالت جاؤ، ہم ان عدالتوں کو چھوڑیں گے نہیں جو ان عدالتوں نے جرم جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اس جرم کا حساب یہ قوم لے گی، تاریخ لے گی۔ خان صاحب کے مقدمات کو فل فور لگایا جائے، ان کا مقدمہ القادر کا جو ایک لفظ کیس ہے جھوٹا، ان کے اوپر الزام ہے، ایک پیسے کا خان صاحب یا بشریٰ بی بی کو فائدہ نہیں ہوا۔ ایک جھوٹے مقدمے میں ایک سال سے ان کی درخواست سنی نہیں جا رہی، ان کی اپیل سنی نہیں جا رہی، سزا معطلی کی درخواست نہیں سنی جا رہی اور اسی طرح جو دوسرا مقدمہ جو توشا خانہ کا ان پہ بنایا گیا اور جس میں سزا دی گئی اس کے حوالے سے بھی ہم فل فور یہ تقاضہ کریں گے کہ ان کی اپیل سنی جائے۔ اب یہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ خان صاحب کو اس طرح جیل میں رکھا جائے۔ ان کا حق ہے آزادی، ان کا حق ہے وہ اس قوم کی آزادی کے لیےلڑ رہے ہیں۔ ان کو آزادی ملے گی اور یہ قوم اب ان کو آزادی دلوائے گی۔ ہم عدالت کے اندر، عدالت کے باہر خان صاحب کا مقدمہ لڑیں گے اور بھرپور۔ مقدمہ لڑیں گے اور بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔ پاکستان کی عوام کو یہ مقدمہ لڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم یقیناً درخواستیں فائل کریں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کس طرح آپ خان صاحب کے مقدمات کو نہیں سنا جاتا، کس طرح خان صاحب کو انصاف نہیں دیا جاتا۔ ریحائی خان صاحب کا حق ہے، ایک دن بھی ان کو جیل میں رکھنا خان صاحب کے خلاف اس قوم کے خلاف جرم ہے۔ اس جرم کو اب ہم برداشت نہیں کریں گے۔
تو مجھے جو حکم ہوا ہے، جو سلمان صفدر صاحب نے مجھے احکامات پہنچائے ہیں، سب پر عمل ہوگا اور آپ دیکھیں گے کہ پاکستانی قوم یہ مقدمہ جیت کر دے گی۔ ان بند عدالتوں کے تالے کھلیں گے، ان بند عدالتوں کو بھی انصاف دینا پڑے گا۔ خان صاحب اس قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں، اس قوم کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس میں حکومت عدلیہ کو بھی انصاف دینا ہوگا۔
ہم بار بار آپ کے سامنے پیش ہوں گے، پاکستانی قوم کے سامنے ہم جواب دیں ہیں۔ بالکل پاکستانی قوم کو حق حاصل ہے کہ ہمارے گریبان تھامے خان کے لیے جو کچھ کرنا ہے۔ اگر ہم نہیں کر پائے تو اب مزید کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی کسی کی جانب سے بھی۔
تو یہ مقدمہ ہم نے لڑنا ہے، یہ جد و جہد ہم نے کرنی ہے اور اب فتح بہت قریب ہے۔ آپ سب یقین رکھیے کہ یہ کہر کی گھڑی ہے، لیکن یہ ہمارے عزم کو دو بالا کرتی ہے، ہمیں مزید طاقت دیتی ہے۔ جو تکلیف خان نے اٹھائی ہے، اس تکلیف کا ازالہ ہم سب کو کرنا ہے۔ تو انشاء اللہ، انشاء اللہ ہم یہاں سے آگے ہی قدم بڑھائیں گے۔ یہ قوم اب پیچھے نہیں ہٹے گی.
یہ تھا سلمان اکرم راجہ کا انٹرویو


0 Comments