السلام علیکم پاکستانیو!
دو ہزار چھبیس کا سال شروع ہوتے ہی پاکستانی عوام پر ایک نیا معاشی دباؤ ڈال دیا گیا ہے، اور یہ دباؤ کسی بم سے کم نہیں، جو موبائل فون کمپنیز کی جانب سے گرایا گیا ہے۔ جیسے ہی نیا سال شروع ہوا، موبائل فونز کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ سلسلہ تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔
سب سے پہلے ٹیکنو نے موبائل فون مہنگے کرنے کی ابتداء کی، اس کے بعد انفنکس، اوپو، ریئل می اور دیگر برینڈز بھی اسی راستے پر چل پڑے۔ اگرچہ اس وقت تک سام سنگ اور ویوو نے اپنی قیمتیں نہیں بڑھائیں، لیکن مارکیٹ میں یہ آوازیں گردش کر رہی ہیں کہ آئندہ دنوں میں یہ دونوں برینڈز بھی موبائل فون مہنگے کر سکتے ہیں، اگرچہ اس کے امکانات پچاس فیصد بتائے جا رہے ہیں۔
انفنکس اور ٹیکنو وہ کمپنیاں ہیں جنہوں نے پچھلے تین مہینوں میں تین مرتبہ موبائل فونز کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ مثال کے طور پر انفنکس اسمارٹ 10 ایچ ڈی جو پہلے اکیس ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت بڑھا کر بائیس ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اسمارٹ 10 پلس پہلے ستائیس ہزار روپے کا تھا، پہلے اٹھائیس ہزار اور اب انتیس ہزار روپے کا ہو چکا ہے۔
مسئلہ صرف ہزار روپے کے اضافے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مہنگے موبائل فونز پر دو، تین اور حتیٰ کہ پانچ ہزار روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ انفنکس ہاٹ 60 پرو، ہاٹ 60 آئی اور ہاٹ 60 پرو پلس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا، جبکہ نوٹ 50 پرو کی قیمت میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی جتنا مہنگا موبائل فون، اتنا ہی زیادہ اضافی بوجھ صارف پر ڈال دیا گیا ہے۔
ریڈمی نے بھی اپنے موبائل فون مہنگے کیے ہیں۔ ریڈمی اے فائیو جو پہلے ہی مہنگا سمجھا جاتا تھا، مزید مہنگا کر دیا گیا۔ چار جی بی ریم اور چونسٹھ جی بی اسٹوریج والا ماڈل پہلے تئیس ہزار روپے میں مل رہا تھا، اب چوبیس ہزار پانچ سو روپے کا ہو چکا ہے۔ اسی طرح چار جی بی ریم اور ایک سو اٹھائیس جی بی اسٹوریج والا ماڈل جو پہلے ستائیس ہزار کا تھا، اب اٹھائیس ہزار روپے میں دستیاب ہے۔
ٹیکنو کے سستے موبائل فون بھی اب سستے نہیں رہے۔ ٹیکنو اسپارک گو 2 جو لانچ کے وقت تئیس ہزار روپے کا تھا، پھر چوبیس، چوبیس پانچ سو اور اب پچیس ہزار پانچ سو روپے کا ہو چکا ہے۔ اسپارک 40 سی جو پہلے ستائیس ہزار میں لانچ ہوا تھا، اب تیس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اسی طرح ٹیکنو اسپارک 40 کی آفیشل قیمت چونتیس ہزار تھی، جو اب چھتیس ہزار ہو چکی ہے۔ ہاٹ 60 آئی چونتیس ہزار سے بڑھ کر چھتیس ہزار کا ہو گیا ہے۔ اسپارک 40 پرو پہلے انچاس ہزار، پھر پچاس ہزار اور اب باون ہزار روپے کا ہو چکا ہے۔ اسپارک 40 پرو پلس اور انفنکس ہاٹ 60 پرو پلس دونوں باسٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ انفنکس نوٹ 50 ستر ہزار جبکہ نوٹ 50 پرو چوراسی ہزار روپے کا ہو چکا ہے۔
یہ وہ موبائل فون ہیں جو حقیقت میں اٹھارہ سے انیس ہزار روپے کی رینج میں ہونے چاہئیں تھے، لیکن انہیں پچیس ہزار سے اوپر بیچا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک کھلا ظلم ہے۔ موبائل فون جو آج کے دور میں بنیادی ضرورت بن چکا ہے، عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے دو ہزار چھبیس کے آغاز پر پٹرول کی قیمت میں دس روپے کمی تو کر دی، مگر موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ اس بار نہ کوئی نیا ٹیکس سامنے آیا اور نہ ہی کوئی واضح وجہ، اس کے باوجود موبائل فون مہنگے کر دیے گئے۔
ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کو کون روکے گا؟ جب حکومتی نظام کمزور ہو تو کمپنیاں بھی عوام کو لوٹنے سے باز نہیں آتیں۔ ہر وہ شخص جسے موقع ملتا ہے، عوام کا خون نچوڑنا شروع کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، ہمیں نیک اور دیانتدار حکمران عطا فرمائے اور ہمارے لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا کرے۔
اسی دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
الحرم موبائل کی جانب سے اپنا اور اپنی پیاری فیملی کا خیال رکھیے گا۔
اللہ حافظ۔



0 Comments