امریکہ نے ایران پر حملے کا اعلان کر دیا، خطے میں بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ
امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے اور عالمی سیاست اس وقت ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالات جس سمت جا رہے ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کے خلاف کھلی جارحیت کا ذہن بنا لیا ہے۔ حالیہ بیانات، خفیہ رپورٹس اور عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں نے اس امکان کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زبان مزید سخت ہو گئی ہے۔ اب بات صرف دباؤ یا پابندیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کھلم کھلا حملے کی بات کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی سینکڑوں کلوگرام جوہری مواد موجود ہے اور یہی ان کے نزدیک سب سے بڑا جواز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس مواد کو ختم نہ کیا گیا تو ایران ایک ناقابلِ قبول طاقت بن سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر ماضی میں یہ کہا گیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی تھیں تو پھر یہ مواد کہاں سے آیا؟ اس تضاد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مقصد جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنا ہے۔
درحقیقت امریکہ ایران کو اس کی آزاد خارجہ پالیسی، علاقائی اثر و رسوخ اور امریکی ڈالر کے نظام سے ہٹ کر فیصلے کرنے کی قیمت چکوانا چاہتا ہے۔ ناظرین! ایران کے اندر ہونے والے احتجاج کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی رہنما کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کے خلاف تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ پُرامن احتجاج ایک حق ہے، لیکن بیرونی فنڈنگ سے پھیلایا جانے والا فساد ناقابلِ قبول ہے۔ حالیہ دنوں میں سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کے بعد یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کو بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پیسے دیے گئے تاکہ ملک میں بدامنی پھیلائی جا سکے۔ ایران اسے براہِ راست امریکی اور اسرائیلی مداخلت قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب روسی میڈیا اور بعض عالمی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے براہِ راست نشانے پر ہوں گے اور ہزاروں فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ایران کے پاس میزائل اور دفاعی صلاحیت موجود ہے جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسرائیل بھی اس ممکنہ جنگ کے نتائج سے محفوظ نہیں رہے گا۔ خود ایرانی قیادت کئی بار واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
امریکہ وینزویلا کی مثال کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کر رہا ہے، جہاں حکومت کو کمزور کر کے وسائل پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے۔ ایران کی فوج، نظریاتی بنیاد اور عوامی مزاحمت اسے ایک مختلف اور کہیں زیادہ مضبوط ملک بناتی ہے۔ اگر امریکہ نے ایران میں کمانڈو آپریشن یا براہِ راست حملے کی کوشش کی تو اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ممکنہ جنگ کو دنیا ایک بڑی تباہی کی طرف بڑھتا ہوا سنگین قدم سمجھ رہی ہے۔
ناظرین! زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اس تمام صورتحال کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان، چین، روس اور دیگر آزاد خارجہ پالیسی رکھنے والے ممالک بھی دباؤ میں آئیں گے۔ اب عالمی سطح پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ طاقتور ممالک کسی بھی ریاست پر حملہ کر سکتے ہیں، اس کی قیادت کو گرفتار کر کے لے جا سکتے ہیں اور پھر اس کے وسائل پر قبضہ جما سکتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو عالمی نظام کو جنگل کے قانون کی طرف لے جا رہا ہے۔
چین اور روس کی جانب سے امریکی دھمکیوں کی شدید مذمت تو کی جا رہی ہے، لیکن عملی طور پر امریکہ اپنی طاقت اور معیشت کے بل بوتے پر آگے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو امریکی ڈالر کے بجائے دوسری کرنسیوں میں تجارت کرنا چاہتے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران بھی انہی ممالک میں شامل ہے اور یہی اس تنازع کی اصل جڑ بنتی جا رہی ہے۔
دوستو! اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا تو یہ اکیسویں صدی کی سب سے خطرناک اور بڑی جنگ بن جائے گی، جس کے نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔ تیل کی قیمتیں، عالمی معیشت، علاقائی امن اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں اس جنگ کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اب آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے اور دنیا یہ دیکھے گی کہ طاقت کا یہ کھیل رکتا ہے یا پھر انسانیت کو ایک نئی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے بارے میں آپ دوستوں کی رائے کیا ہے؟ کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور بتائیے گا۔ ان شاء اللہ آپ سے ملاقات ہوگی نئی اپڈیٹس کے ساتھ۔ تب تک اپنا بہت خیال رکھیے گا۔
اللہ حافظ۔


0 Comments