عمران خان نے اپنی غلطی سدھار لی؟ جیل میں بیٹھ کر خود کو منوالیا – حامد میر کا تجزیہ

 

اصل بات یہ ہے کہ عمران خان نے ماضی میں محمود خان اچک زئی کے بارے میں جو کچھ بھی کہا، لیکن جب وہ جیل پہنچے تو انہیں اپنی اس غلطی کا احساس ہوا۔ اسی احساس کے بعد عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر محمود خان اچک زئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا۔

حکومت نے اس معاملے پر کافی لیت و لعل سے کام لیا اور مختلف نخرے دکھائے، لیکن آخرکار وہ مجبور ہو گئی۔ حکومت نے محمود خان اچک زئی کو قومی اسمبلی میں جبکہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا۔

اس فیصلے سے عمران خان کو کئی سیاسی فوائد حاصل ہوئے۔ سب سے پہلے انہوں نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اڈیالہ جیل میں ہونے کے باوجود پاکستان کی سیاست میں اب بھی ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے انہیں نااہل کیا، الیکشن سے باہر کیا اور سیاست سے مائنس کرنے کی کوشش کی، وہ اس مقصد میں ناکام ثابت ہوئے۔

اگر عمران خان جیل میں بیٹھ کر محمود خان اچک زئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ عمران خان آج بھی پاکستان کی سیاست کا ایک اہم پلیئر ہیں۔

دوسری بات جو عمران خان نے ثابت کی وہ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں اس نظام یا نام نہاد جمہوریت کے خلاف اکیلے جدوجہد نہیں کر رہے۔ ان کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں اور ان جماعتوں کا تعلق مختلف صوبوں سے ہے۔

محمود خان اچک زئی کی جماعت کا تعلق بلوچستان سے ہے، جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس کا تعلق مجلس وحدت المسلمین سے ہے جو ایک دینی جماعت ہونے کے ساتھ پورے پاکستان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی جماعتیں تحریک تحفظِ آئین کا حصہ ہیں۔

چونکہ عمران خان محمود خان اچک زئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمود خان اچک زئی جو پہلے تحریک تحفظِ آئین کے سربراہ تھے، اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بن چکے ہیں۔ یوں ایک بڑے اپوزیشن اتحاد کا سربراہ اب باضابطہ طور پر ایوان کے اندر اپوزیشن لیڈر کے منصب پر فائز ہو چکا ہے۔

Post a Comment

0 Comments