اسرائیل میں خطرے کی گھنٹیاں، ایران کے ممکنہ حملے کا خدشہ، اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم

 

اسرائیل میں سائرن بج اٹھے، ایران کا حملہ، اگلے 48 گھنٹے اہم قرار، امریکہ بھی کود پڑا

اسرائیل میں خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں، اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ عام شہریوں کو ایٹمی بنکروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ہنگامی اقدامات کے تحت حساس علاقوں میں رہنے والوں کو زیرِ زمین پناہ گاہوں میں بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ سردی کالونیاں خالی ہو رہی ہیں، اسکول بند ہیں، اور سڑکوں پر غیر معمولی خاموشی ہے۔ ہر طرف خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔

ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے خدشے نے اسرائیلی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ چند گھنٹوں کے لیے نہیں بلکہ کئی دنوں تک بنکروں میں رہنے کے لیے تیار رہیں، کیونکہ حالات کسی بھی لمحے بگڑ سکتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر اس بار معاملہ زبانی دھمکیوں سے آگے نکل چکا ہے۔ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی ادارے یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ ایران کی طرف سے براہِ راست یا بالواسطہ حملہ ہو سکتا ہے۔ اسی خدشے کے تحت اسرائیلی فوج نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ میزائل ڈیفنس سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں اور فوجی مشقوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ عام شہریوں کو موبائل الرٹس کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ ہدایات دی جا رہی ہیں۔

اس تمام صورتحال میں امریکہ بھی میدان میں کود چکا ہے۔ امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے اسرائیل پہنچ چکے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کا فوری اور سخت جواب دیا جا سکے۔ امریکہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

امریکہ کی موجودگی کا مقصد صرف دفاع نہیں ہے بلکہ ایران پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا بھی ہے، تاکہ وہ کسی بھی بڑے قدم سے پہلے سو بار سوچے۔ دوسری جانب ایران بھی خاموش نہیں ہے۔ اس کے عسکری بیانات مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

ایران اسرائیل جنگ اگر شروع ہو گئی تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ پورا مشرقِ وسطیٰ اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، عالمی معیشت کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے، اور کئی ممالک کو سکیورٹی خدشات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

لبنان، شام، عراق اور خلیجی خطے میں بھی بے چینی بڑھ چکی ہے۔ ہر کوئی یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا واقعی اگلے چند گھنٹوں میں جنگ کا آغاز ہونے والا ہے؟ یا پھر آخری لمحے پر کوئی سفارتی کوشش حالات کو سنبھال لے گی؟

اگلے 48 گھنٹے اس پوری صورتحال میں انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جس میں یا تو کشیدگی کھل کر جنگ میں بدل سکتی ہے، یا پھر وقتی طور پر ٹل سکتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس دے رہا ہے۔ ایرانی میڈیا طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور عالمی طاقتیں بند کمروں میں رابطے تیز کر چکی ہیں۔ عوام بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ آنے والا کل کیسا ہوگا۔

بنکروں میں بیٹھے اسرائیلی شہری صرف ایک ہی دعا کر رہے ہیں کہ یہ خوفناک رات کسی بڑے سانحے میں نہ بدل جائے۔ اب یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جنگ یقینی ہے یا نہیں، مگر حالات اس طرف اشارہ ضرور کر رہے ہیں کہ خطہ ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

ایک غلط قدم، ایک غلط اندازہ، اور آگ پورے علاقے میں پھیل سکتی ہے۔ دنیا کی نظریں اب اسرائیل اور ایران پر جمی ہوئی ہیں، اور سب کو احساس ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹے تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

اگر اس سارے معاملے میں امریکہ مثبت کردار ادا کرے تو یقیناً یہ خطرہ ٹل سکتا ہے۔ اس بارے میں آپ کی رائے کیا کہتی ہے؟ کمنٹ میں ہمارے ساتھ شیئر ضرور کیجیے۔  ان شاء اللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں کچھ نئے اور تازہ اپڈیٹس کے ساتھ۔ تب تک اپنا ڈھیر سارا خیال رکھیے۔ اللہ نگہبان۔

Post a Comment

0 Comments