Nawaz Shareef VS Sohail Afridi

 سوہیل افریدی کو میں نے لاہور میں گھومتے ہوئے دیکھا نا تو مجھے نواز شریف کا ایک دورہ یاد آ گیا۔ نواز شریف نے دورہ کیا تھا لاہور میں اور نواز شریف گئے تھے مونی روڈ پہ۔ یہ نواز شریف صاحب کا ایک پرانا عشق ہے مونی روڈ، ان کے فیملی کے لوگ بھی یہاں پہ رہتے ہیں، ان کا سسرال سمجھ لیں آپ مونی روڈ پہ۔ جناب نواز شریف صاحب گئے بڑے اپنے ساتھ گاڑیوں کا قافلہ لے کر گئے۔ جتنی گاڑیاں رائیونڈ سے لے کر نکلے تھے نا اتنی گاڑیاں تھیں وہاں پہ۔ جو کیمرمین تھے انہوں نے جو فوٹیج بنائی اور جو پبلک ہوئی اس میں لوگ نواز شریف کا مزاق اڑا رہے تھے مونی روڈ پہ۔ مجھے یاد ہے اچھی طرح بچے پیچھے چھوڑ دیئے تھے، بچے مزاق اڑا رہے تھے، تمسخر اڑا رہے تھے۔

                      


آج میں نے سہیل افریدی کو لاہور میں سڑکوں پہ گھومتے ہوئے دیکھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ نواز شریف نے اپنے ساتھ کیا ظلم کر دیا؟ کیا اپنے ساتھ نواز شریف نے زیادتی کیا؟ ٹکا کے کہ آج وہ لاہور کی سڑکوں پہ نہیں نکل سکتا اور خیبر پختونخوا سے ایک بچہ جسے کل تک کوئی جانتا بھی نہیں تھا وہ لاہور آتا ہے تو لاہور اومڑ آتا ہے، اس کو ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ نواز شریف نے اپنی سیاست کے ساتھ خود کیا۔


اور سہیل بڑائی صاحب کا میں دیکھ رہا تھا کہ نواز شریف ایک دروازے سے مضامت کرتا ہے، ایک سے مفامت کرتا ہے۔ یعنی نواز شریف کو مضامت کے مشورے اور عمران خان کو مفامت کے مشورے۔ سہیل بڑائی صاحب اب دونوں بندوں کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔ نہ عمران خان نے مفامت پہ چلنا ہے، اس نے بات کرنی ہے پاکستان کے لیے کرنی ہے، وہ صاف کہہ چکا ہے۔ اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس کو جیل میں آپ کیا کرتے ہیں اس کے ساتھ اور نواز شریف کو آپ دے رہے ہیں مضامت کے مشورے۔ نواز شریف صاحب صرف اتنی مضامت کر سکتے ہیں کہ پالش ختم ہو گی، دوسری لے کے ہو فٹا فٹ، اس سے زیادہ مضامت نہیں ہوگی۔ ان سے آپ تک کے لیے اتنی اپنا خیال رکھئے گا۔ اللہ حافظ.

Post a Comment

0 Comments