پاکستان کی سیاست کا نیا موڑ: کیا طاقت واقعی عوام کے سامنے جھک گئی؟
پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا لمحہ آ چکا ہے جس نے طاقت کے تمام دعوؤں کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ صرف چوبیس گھنٹوں میں سیاسی منظرنامہ یکسر بدل گیا۔ وہ حلقے جو کل تک پاکستان تحریکِ انصاف کو کچلنے کے دعوے کر رہے تھے، آج عمران خان کے نام پر پسپائی اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تین دن کی محدود سیاسی سرگرمیوں کی اجازت کسی رعایت سے زیادہ ایک خاموش شکست کا اعلان ہے۔
ریاستی جبر بمقابلہ عوامی طاقت
کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے کے فوراً بعد ملنے والا یہ گرین سگنل واضح کرتا ہے کہ ریاستی جبر کی تمام حدیں عبور کرنے کے باوجود عمران خان کی مقبولیت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔
- جیل
- مقدمات
- میڈیا بلیک آؤٹ
- کردار کشی
سب کچھ آزما لیا گیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔
اصل سوال: اجازت اب کیوں؟
یہ سوال اہم نہیں کہ اجازت کیوں دی گئی، اصل سوال یہ ہے کہ اب کیوں دی گئی؟
جواب بالکل واضح ہے:
- عالمی دباؤ
- اندرونی بے چینی
- خفیہ اداروں کی رپورٹس
ان رپورٹس کے مطابق عمران خان آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی عوامی طاقت ہیں، اور ان کے بغیر کوئی سیاسی فارمولا قابلِ عمل نہیں۔
بیانیے کی تبدیلی
جن لوگوں کو کل تک دہشت گردی اور ریاست دشمنی سے جوڑا جا رہا تھا، آج انہی کے نمائندوں کو جیل ملاقاتیں، سیف ایگزٹ اور نرم رسائی دی جا رہی ہے۔
مقدمات اور عوامی ردعمل
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف بنائے گئے مقدمات عوامی ہمدردی کم کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط کر گئے۔
آج ہر گلی ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے:
اگر سب کچھ غلط تھا تو پھر خوف کس بات کا ہے؟
یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں
یہ صرف عمران خان کا نہیں بلکہ عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کی عزت کا معاملہ ہے، جسے کسی خفیہ ڈیل کی میز پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
آگے کیا ہوگا؟
- انارکی میں اضافہ
- عدم استحکام میں شدت
یا پھر ریاست آئین اور عوام کے ساتھ کھڑی ہو کر تاریخ کا درست رخ منتخب کرے گی۔
نتیجہ
یہ ہے آج کا پاکستان، اور یہ ہے عمران خان کی سیاست کی وہ طاقت جسے ماننے پر سب مجبور ہو چکے ہیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کمنٹ میں اپنی رائے دیں، پوسٹ شیئر کریں اور بلاگ کو فالو کریں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


0 Comments